اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی، نوآموز سیاستدان اور ان کے میڈیا
کے نمائندوں کو آخرکار ایک پیغام مل گیا ہے جس میں ہیرو جوان سے یکساں
درخواست کی گئی ہے اور یہ ایسے فروخت ہو رہا ہے جیسے کوئی مقبول مشروب یا
کوئی پسندیدہ موسیقی کا پروگرام، تازہ ترین پیغام کی جڑیں بھی ماضی میں
ہیں۔ ملک بھر کے اخبارات کی سرخیاں اور ٹی وی چینلز کی خبریں امریکہ کے
خلاف تازہ ترین جنگ کی تیاریوں کے لئے قوم کو متحد کرنے کا وعدہ ہیں لیکن
اس جذباتی قوم پرستی میں شرکت سے پہلے ہمیں ماضی میں اس شاندار وعدے کو
بیچے جانے کے اثرات کو سمجھنا چاہئے، جذباتی قوم پرستی تب بھی خود فریبی
تھی اب بھی خودفریبی ہے۔ امریکہ کے لئے کہنا کہ ”منہ توڑ جواب دیں گے“
ہوسکتا ہے نیا پیغام ہو یہ تازہ ترین جنگی جذبہ جانا پہچانا ہے، جذباتی قوم
پرستوں کے مطابق ہمارے تمام مسائل غیرملکی سازشی دشمنوں کے پیدا کردہ
ہیں،ہمیں بین الاقوامی کمیونٹی خیرباد کہہ چکی ہے، سچائی کو نظرانداز کر
دیا گیا ہے یا پاکستان کے خلاف غیرملکی میڈیا نے سچ پر پردہ ڈال دیا ہے
لیکن ہم خود کو یقین دلاتے ہیں کہ چین ہماری ضرورت کی گھڑی میں ہر موسم کا
اتحادی ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود ہم ہی فاتح ہوں گے، پھولی ہوئی
چھاتی، لہراتے جھنڈے اور بچے پرزور انداز میں قومی ترانہ گانا شروع کر دیتے
ہیں۔
ہوسکتا ہے ہمارے شہریوں کی اکثریت 1971ء کے بعد پیدا ہوئی ہو لیکن
ابھی تک ایسے بوڑھے بھی زندہ ہیں جن کو تکلیف دہ وقت یاد ہے۔ ہمیں بتایا
گیا کہ سازشی ہندو مشرقی پاکستان میں ہماری ریاست کے خلاف منصوبہ بنا رہے
ہیں، عوامی لیگ کے شیخ مجیب بھارت کے ہتھیار ہیں ہمارے بہادر جرنیل یحییٰ
خان اور ان کے حامی مذہبی دائیں بازو کے لوگ امن و امان بحال کررہے تھے اسی
وقت بھارتی فوجوں نے صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی کمر توڑ دی۔
اس وقت نعرہ تھا کہ ”بھارت کو کچل دو“ جیسے آج اسلامی پارٹی کے مظاہرین
اور ریٹائرڈ جرنیلوں کا نعرہ ہے ”امریکہ کو کچل دو“۔ یہ جدید جنگ بدر تھی
اور ہمارے طاقتور جوان تعداد میں زیادہ تھے وہ جلد ہی بھارت کو نیچا دکھا
دیں گے۔ اخبار کی سرخیوں نے ہماری فتوحات کا اعلان کر دیا، میں نے یکم
دسمبر 1971ء سے سال کے آخر تک کے اخبارات جمع کر لئے تھے یہاں کچھ حقیقی
سرخیاں پیش کی جاتی ہیں جو کراچی کے بڑے انگریزی اخباروں نے شائع کی تھیں
”اب یہ سب کی جنگ ہے“، ”بڑی فضائی اور زمینی کامیابیاں“، ”دشمن کا بھاری
نقصان“ جنرل یحییٰ خان قوم کو بچانے کے لئے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی
قربانیاں یاد دلائیں اور تمام پاکستانیوں کو کہا کہ وہ دفاعی فنڈ کے لئے
عطیہ دیں۔ پہلے صفحے پر اشتہارات بڑی کمپنیوں نے دیئے جن میں جہاد کا بڑی
دلیری کے ساتھ دعویٰ کیا گیا۔ 17 دسمبر 1971ء کو اخبارات نے ایک سرخی لگائی
کہ ”جیت تک جنگ جاری رہے گی“ جبکہ ایک روز قبل 16 دسمبر کو لیفٹیننٹ جنرل
اے اے کے نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہونے والی ایک تضحیک آمیز تقریب
میں 90ہزار فوجیوں اور سویلین کے ہمراہ لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے
سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے یہ تقریب سوائے پاکستان کے تمام دنیا میں
دکھائی گئی۔ ”جیت تک جنگ جاری رہے گی“ کی نمایاں سرخی کے ساتھ اخبار نے
17دسمبر کو ایک اور چھوٹی سی سرخی بھی لگائی جس میں کہا گیا کہ یحییٰ نے
سیز فائر کے احکامات دے دیئے، 2 دن بعد یحییٰ کی حکومت ختم ہوگئی اور
ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان میں حکومت سنبھال لی، 9 ہزار پاکستانی
مارے گئے، چین کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور
وہ ایک طرف ہو کر خاموش بیٹھا رہا۔ ڈھاکہ میں بھارت کے جھنڈے کے بجائے
بنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا گیا، جارحانہ جذبے سے شروع کی گئی جنگ ختم ہو
چکی تھی، پاکستان 2حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ غیرت بریگیڈ کو شکست کی وجوہات
اور پیچیدہ سازشی نظریات جاننے کا ٹاسک دیا گیا، اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی
کہ ہم نے بنگالیوں کو اپنا مخالف بنا لیا تھا اور ہماری فوج کے پاس دو
محاذوں پر لڑنے کی مہارت نہیں تھی، جذباتی قوم پرستی میں کوئی حقیقت نہیں
ہوتی یہ جھوٹ اور خودفریبی سے بھری ہوتی ہے۔ یہ سائیکل 1999ء میں پھر
دہرایا گیا جب مہم جو جرنیلوں نے لائن آف کنٹرول میں موسم سرما کے دوران
بھارتی پوزیشنز پر قبضہ کرنے اور ”آپریشن بدر“ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب
دراندازی کا انکشاف ہوا تو بھارت نے 2 لاکھ فوجیوں کو متحرک کرکے جواب دیا۔
قومی میڈیا نے کشمیری حریت پسندوں کی حمایت کا طبل بجا دیا اور آئی ایس پی
آر کے بریگیڈئر راشد قریشی اس بات پر زور دیتے رہے کہ باقاعدہ پاکستانی
فوجیوں کا اس لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس ناکام مہم جوئی کے خالق جنرل
پرویز مشرف نے بھی خود کو یحییٰ خان کی طرح چال باز ثابت کیا۔




