28 January, 2009

بہشتِ مرحوم کی یاد میں


 سوات میں تباہ کیا جانے والا بدھ کا مجسمہ
طالبان کی جانب سے سوات میں تباہ کیا جانے والا بدھ کا مجسمہ

سکندرِ اعظم ذرا جلدی میں تھا۔ مقامی لوگ آج بھی یقین سے کہتے ہیں کہ اگر اسے دریائے سوات کے کنارے کچھ دن اور سستانے، برفیلے پہاڑوں سے چھو کر آنے والی ہوا میں بانسری کی لرزتی ہوئی لے پر غور کرنے اور پتھروں سے ٹکراتے پانی کے بہاؤ سے مرصع خاموشی کی آواز پر کان دھرنے کا موقع مل جاتا تو پھر وہ کہیں کا نہ رہتا اور اس کا مقبرہ بھی یہیں کہیں ہوتا۔

لیکن سکندر سے زیادہ حسن پرست تو کنشک نکلا جس نے پشاور کے گزرگاہی شور سے تنگ آ کر اپنا دارالحکومت گھوڑوں پر لادا اور سوات کی جانب نکل لیا۔

اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے ہزار برس کے لیے وادی سوات بدھوں کی عبادت اور بھکشو طلبا کی تربیت کا مرکز بن گئی۔ آج بھی منگلور کے قریب جہان آباد کی چٹانوں میں کھدا ہوا گوتم بدھ کا مجسمہ اس سنہری دور کے آخری گواہوں میں بچا ہے جب وادی میں پھیلی ہوئی سینکڑوں عبادت گاہوں سے یا توگھنٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں یا پھر سنگتراشوں کے تیشے کی صدا آتی تھی۔

سوات بلکہ آج کا پورا مالاکنڈ اور ٹیکسلا تک کا علاقہ بدھوں کے لیے وہی تھا جو آج کے سنّیوں کے لیے الازھر والا قاہرہ یا شیعوں کے لیے قم یا ہندوؤں کے لیے بنارس یا عیسائیوں کے لیے غربِ اردن ہے۔ پھر ایک دن وہی ہوا جو ایک نہ ایک دن سب علاقوں کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ وحشی ہنوں نے بدھ سوات کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ معاشرہ تتربتر ہوگیا جو جہاں تھا وہیں دبک گیا۔

سوات بلکہ آج کا پورا مالاکنڈ اور ٹیکسلا تک کا علاقہ بدھوں کے لیے وہی تھا جو آج کے سنّیوں کے لیے الازھر والا قاہرہ یا شیعوں کے لیے قم یا ہندوؤں کے لیے بنارس یا عیسائیوں کے لیے غربِ اردن ہے۔

اس یلغار کے کچھ عرصے بعد چھ سو تیس عیسوی میں ایک چینی راہب ہیون سانگ اس علاقے میں آیا۔ اس کے بقول ’چودہ سو بدھ خانقاہوں میں سے اکثر یا تو کھنڈر بن چکی ہیں یا خستہ حالی کے سبب ترک کر دی گئی ہیں۔ بہت سے جیّد راہب یا تو نقل مکانی کر گئے یا مرگئے۔ جو رہ گئے وہ مقدس تعلیمات کے حوالے تو دیتے ہیں لیکن ان کا مطلب نہیں جانتے۔ بیلوں پر انگور چڑھا ہوا ہے مگر کاشتکاری ناپید ہوگئی ہے‘۔

ہیون سانگ نے یہ زوال دیکھا تو چالیس گھوڑوں پر قلمی نسخے لدوا کر اپنے ساتھ لے گیا۔( لگتا ہے جیسے ہیون سانگ ڈیڑھ ہزار برس پہلے کے نہیں بلکہ دو ہزار نو کے حالات بیان کر رھا ہو)۔

اس زوال کے باوجود وادی سوات اگلے پانچ سو برس تک بدھ تہذیب میں رنگی رہی۔ تاوقتیکہ سلطان محمود غزنوی نے آخری بدھ راجہ گیرا کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

پندرھویں صدی کے آخری برسوں میں اس وادی پر افغان یوسف زئیوں کی یلغار شروع ہوئی اور انہوں نے یہاں پہلے سے آباد باشندوں کو دریائے سندھ کے پار اس علاقے میں دھکیل دیا جو بعد میں ہزارہ کہلایا مگر یہ نوارد یوسف زئی ہن حملہ آوروں کی طرح نپٹ جاہل نہیں تھے بلکہ انکے سردار شیخ ملی نے نہ صرف اس وقت کے رواج کے حساب سے دیوانی و فوجداری قوانین کا مجموعہ دفترِ ملی کے نام سے مرتب کروایا بلکہ رزمیہ شاعری بھی کی جسے فتح سوات کے نام سے جمع کیا گیا۔

سن انہتر میں پاکستان سے الحاق کے بعد سوات پاکستان کے سیاحتی نقشے پر سب سے مقبول جگہ بن گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سوات کے طول و عرض میں پانچ سو سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹل اپنے پچیس ہزار سے زائد کارکنوں سمیت سیاحوں کے منتظر رہتے تھے مگر پھر بھی سینکڑوں مہمانوں کو ان ہوٹلوں میں جگہ کی تنگی درپیش رہتی تھی۔

اسی دور میں بازید انصاری نے اپنی سوانح حیات اور حفظ و تجوید کے اصولوں پر مبنی تصنیف خیرالبیان مرتب کی جبکہ اخوند زادہ درویزا نے ’تذکرہ‘ اور ’مخزن‘ تصنیف کیں جنہیں پشتو کے زمانی ادب کا اہم سنگِ میل کہا جاتا ہے۔

مغلوں کے زوال کے بعد انیسویں صدی کے وسط میں یکے بعد دیگرے اکبر شاہ اور مبارک شاہ نامی دو مقامی حکمران گزرے جنہوں نے رواج و شریعت کی بنیاد پر حکومت کرنے کی کوشش کی لیکن انگریزوں کی گرفت مضبوط ہوتے ہی ان کی حکمرانی غتربود ہوگئی۔ اٹھارہ سو تریسٹھ سے انیس سو پندرہ تک یہ علاقہ نواحی ریاست دیر کے زیرِ اثر رہا۔ پھر ایک دن سوات کے قبائلی سرداروں کا ایک بڑا جرگہ کبل کے میدان میں دریائے سوات کے کنارے منعقد ہوا جس نے میاں گلشن زادہ عبدالودود کو اپنا سربراہ چن لیا۔ میاں گل ودود کی انیس سو سولہ میں بطور والی سوات رسمِ تاج پوشی ہوئی اور رعایا میں وہ باچا صاحب کے نام سے پہچانے گئے۔

باچا صاحب اپنے زمانے کے حساب سے ایک ترقی پسند حکمران ثابت ہوئے۔ برطانیہ نے ان کی ریاست کی محدود خود مختاری تسلیم کی اور انہیں پندرہ توپوں کے سلیوٹ کا حقدار قرار دیا۔ میاں گل نے فارسی کی بجائے پشتو کو ریاست کی سرکاری زبان بنانے کا قدم اٹھایا۔ پہلی مرتبہ زمینوں کی الاٹمنٹ موروثی طریقے سے کی گئی۔گو یہ خانہ بدوشی کے دور کے مقابلے میں ایک اچھا معاشی قدم تھا لیکن موروثی زمینی ملکیت نے خوانین کے ایسے طبقے کو جنم دیا جو ریاست کا تو وفادار تھا لیکن مزارعین کو پسماندہ رکھنا چاہتا تھا۔

میاں گل نے رواج اور شریعت کو قانونی شکل دیتے ہوئے دو جلدوں میں فتاوی ودودیہ کے نام سے مجموعہ قوانین بھی مرتب کروایا۔(یہ مجموعہ مرتب کروانے کا خیال غالباً انہیں اورنگ زیب کی فتاوی عالمگیری کی شہرت کے سبب آیا ہوگا)۔

انیس سو انہتر میں ریاست سوات پاکستان میں شامل کی گئی اور بادشاہت کی جگہ مالاکنڈ ڈویژن کی کمشنری نے لے لی تو پہلے کمشنر سید منیر حسین شاہ نے یہ نوٹ لکھا کہ سوات میں مزید ترقیاتی کاموں کی ضرورت نہیں ہے۔ جو تعمیراتی ڈھانچہ موجود ہے وہ لوگوں کی ضرورت کے لیے بہت ہے۔ بس اسے ہی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ سوات یہ نوٹ لکھے جانے کے تقریباً اڑتیس برس بعد تک زندہ رھا اور پھر اسے کروڑوں لوگوں کے سامنے دن دھاڑے ذبح کردیا گیا۔

میاں گل عبدالودود نے اگرچہ خود رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمسایہ ریاست دیر جہاں دنیاوی تعلیم کے حصول کو سرکاری طور پر گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا اس کے برعکس سوات کی نئی ریاست میں انیس سو بائیس میں پہلا پرائمری سکول قائم ہوا جس میں بچے اور بچیاں ساتھ پڑھتے تھے۔ چار برس بعد ایک اور سکول صرف لڑکیوں کے لیے بنایا گیا۔

لیکن جدید سوات کا سنہری دور دوسرے والی میاں گل عبدالحق جہانزیب کا بیس سالہ دورِ اقتدار تھا۔ وہ انیس سو انچاس میں اپنے والد کی جگہ برسرِ اقتدار آئے۔ مفت تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ شاہراہوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کو اولیت دی گئی۔ سوات، بنیر، شانگلہ پار اور انڈس کوہستان کے علاقے میں تعلیمی اداروں کے فروغ کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ وظیفوں کا اجراء ہوا۔

انیس سو باون میں ریاست کے دارالحکومت سیدو شریف میں جدید اعلی تعلیم میں خود کفالت کے لیے جہانزیب کالج بنایا گیا۔اسی کالج سے سائنسی و ادبی موضوعات پر مبنی رسالہ ’علم‘ بھی شائع ہوتا تھا۔ انیس سو چونسٹھ میں میاں گل جہانزیب کے مالی اور زمینی عطیے سے کانونٹ تعلیم کے لیے سنگوٹا پبلک سکول کی بنیاد ڈالی گئی۔( انیس سو نواسی تک یہاں مخلوط تعلیم تھی۔ پھر اسے لڑکیوں کے لیے وقف کردیا گیا اور لڑکوں کے لیے علیحدہ ایکسلسئیر کالج بنایا گیا۔گذشتہ برس اکتوبر میں طالبان نے دونوں اداروں کو تباہ کر کے ان کا سازوسامان لوٹ لیا)۔

دوسرے والی کے دور میں بننے والے ان اداروں میں نہ صرف سوات بلکہ صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع سے بھی والدین اپنے بچے معیاری تعلیم کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ اس دور میں سوات کی لڑکیوں میں خواندگی کا تناسب دیگر تمام نواحی علاقوں سے زیادہ تھا۔( انیس سو انہتر میں جب پاکستان کی یحیٰی حکومت نے ریاست دیر، چترال اور سوات کو پاکستان میں مدغم کرلیا تو اس کے بعد سوات میں نجی تعلیمی ادارے بھی بڑی تعداد میں قائم ہوئے۔تعلیمی اداروں کی تباہی کے موجودہ دور سے قبل ضلع سوات میں صرف لڑکیوں کے لئے دس ہائی سکول، چار ہائر سیکنڈری سکول، چار ڈگری کالج اور ایک پوسٹ گریجویٹ کالج فعال تھا)۔

جن ہاتھوں نے ہزاروں برس قبل گندھارا تہذیب کو مجسموں اور سٹوپا کی شکل میں آنے والی نسلوں کے لیے نشانیوں کی صورت محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ انہی ہاتھوں نے اسلام پھیلنے کے بعد اپنے فن کو بھی نئی شکل دے دی۔مجسمے تراشنے والوں نے مساجد کے مینار ، آتش دان اور ان پر نقش تراشنےشروع کر دیے۔ انہی ہاتھوں نے لکڑی کے فرنیچر میں کندہ کاری کی جدتیں گھڑیں۔اس فن نےگھڑوں کو نقشین بنانے اور غالیچوں، واسکٹوں اور تکیے کے غلافوں پر کشیدہ کاری کی صورت قبضہ کرلیا۔ یوں بحرین، کالام ، اترور، گبرال گندھارا آرٹ کی اس جدید شکل کے گڑھ بن کر ابھرے۔

جہاں تک علاقے کی معیشت کا معاملہ ہے تو بنیادی سرگرمی زراعت ہی رہی۔ لیکن جن ہاتھوں نے ہزاروں برس قبل گندھارا تہذیب کو مجسموں اور سٹوپا کی شکل میں آنے والی نسلوں کے لیے نشانیوں کی صورت محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ انہی ہاتھوں نے اسلام پھیلنے کے بعد اپنے فن کو بھی نئی شکل دے دی۔

مجسمے تراشنے والوں نے مساجد کے مینار ، آتش دان اور ان پر نقش تراشنےشروع کر دیے۔ انہی ہاتھوں نے لکڑی کے فرنیچر میں کندہ کاری کی جدتیں گھڑیں۔اس فن نےگھڑوں کو نقشین بنانے اور غالیچوں، واسکٹوں اور تکیے کے غلافوں پر کشیدہ کاری کی صورت قبضہ کرلیا۔ یوں بحرین، کالام ، اترور، گبرال گندھارا آرٹ کی اس جدید شکل کے گڑھ بن کر ابھرے۔

اگرچہ والیانِ سوات کے دور میں اجنبی باشندے بلا سرکاری اجازت اراضی نہیں خرید سکتے تھے لیکن میاں گل جہانزیب نے سن ساٹھ کے عشرے میں سوات کو ٹیکس فری زون کا درجہ دے دیا۔ تاہم ہر صنعتکار کو یہ عہد کرنا پڑتا تھا کہ وہ بعد میں اپنا صنعتی یونٹ کہیں اور منتقل نہیں کرے گا۔ پنجاب اور کراچی کے صنعت کاروں نے یہاں ریشم کی صنعت کو فروغ دیا اور کاسمیٹکس تیار کرنے کی فیکٹریاں لگائیں۔ قریباً ساڑھے تین سو فیکٹریوں میں ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار ملا جبکہ خواتین کی ایک محدود تعداد بھی ان اداروں میں کام کرتی تھی۔

شہر میں والی کی اجازت سے ایک سینما گھر بھی قائم کیا گیا لیکن کسی کو غل عپاڑے اور دادا گیری کی جرات نہیں تھی۔ دارالحکومت سیدو شریف اور منگورہ میں کسی بھی حیثیت کا آدمی کھلے عام اسلحہ کی نمائش نہیں کر سکتا تھا۔

مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا روزگار سیاحت کی صنعت سے بھی وابستہ تھا۔ سن انہتر میں پاکستان سے الحاق کے بعد سوات پاکستان کے سیاحتی نقشے پر سب سے مقبول جگہ بن گیا۔وجہ یہ تھی کہ یہاں کے لوگ باقی علاقوں کی نسبت نہایت خوش اخلاق اور معتدل مزاج کے حامل سمجھے جاتے تھے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سوات کے طول و عرض میں پانچ سو سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹل اپنے پچیس ہزار سے زائد کارکنوں سمیت سیاحوں کے منتظر رہتے تھے مگر پھر بھی سینکڑوں مہمانوں کو ان ہوٹلوں میں جگہ کی تنگی درپیش رہتی تھی۔

اگرچہ والیان کے دور میں شریعت اور رواج پر مبنی قوانین کے سبب فوری اور سستا انصاف میسر تھا لیکن ریاست کی عمومی فضا روشن خیال تھی۔ دربار میں باقاعدہ مشاعرے ہوتے تھے جن میں سوات سے باہر دور دور سے شعراء کو مدعو کیا جاتا تھا۔ دربار کے علاوہ خوشحال لوگوں کے ہاں بھی شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر مجرے کی روایت تھی۔

عید کے دنوں میں دریائے سوات کے کنارے عوامی میلہ لگتا تھا۔ ناچ گانا اور کھیل تماشا اس میلے کی پہچان تھا۔ وہ میلہ ہی نہیں سمجھا جاتا تھا جس میں حافظ الپوری کا کلام نہ ہو۔ ستار، رباب، تھمبل، منگئے ( گھڑا) اور چاوترے کی صدا اور شپےلئی ( بانسری ) کی لے سنائی نہ دے اور بی بی، شینوگے، اقبال ، خورشیدہ، شمیم اور گنگو رقص کناں نہ ہوں۔

رقص و موسیقی کے فن سے وابستہ لوگوں کے لیے منگورہ میں ایک علیحدہ محلہ بھی آباد کیا گیا۔ جب والی دوم نے ایک رقاصہ سے شادی کی تو خاصا شور اٹھا لیکن ایسی کئی رقاصائیں تھیں جنہوں نے اشرافیہ میں شادی کی اور پھر ان کا نام کسی نے کسی کی زبان سےنہیں سنا۔

کبھی ریاست کی عمومی فضا روشن خیال تھی

شہر میں والی کی اجازت سے ایک سینما گھر بھی قائم کیا گیا لیکن کسی کو غل عپاڑے اور دادا گیری کی جرات نہیں تھی۔ دارالحکومت سیدو شریف اور منگورہ میں کسی بھی حیثیت کا آدمی کھلے عام اسلحہ کی نمائش نہیں کر سکتا تھا۔

جب انیس سو انہتر میں ریاست سوات پاکستان میں شامل کی گئی اور بادشاہت کی جگہ مالاکنڈ ڈویژن کی کمشنری نے لے لی تو پہلے کمشنر سید منیر حسین شاہ نے یہ نوٹ لکھا: ’سوات میں مزید ترقیاتی کاموں کی ضرورت نہیں ہے۔ جو تعمیراتی ڈھانچہ موجود ہے وہ لوگوں کی ضرورت کے لیے بہت ہے۔ بس اسے ہی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے‘۔

سوات یہ نوٹ لکھے جانے کے تقریباً اڑتیس برس بعد تک زندہ رھا اور پھر اسے کروڑوں لوگوں کے سامنے دن دھاڑے ذبح کردیا گیا۔

27 January, 2009

پاکستان میں پہلی بار خصوصی اقدام کی وزارت


لعل خان
وزیر برائے سپیشل انیشیٹو (خصوصی اقدام) لعل خان
پاکستان میں اس وقت تریسٹھ اراکین پر مشتمل وفاقی کابینہ کو دنیا کی بڑی کابیناؤں میں شمار کیا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے اراکین اور اتحادیوں کو بظاہر خوش کرنے کی خاطر ان میں وزارتیں ’تقسیم‘ کیں۔ البتہ جہاں وزارتیں کم پڑیں وہاں ’خصوصی اقدام‘ کے نام پر ملک میں پہلی مرتبہ ایک نئی وزارت بھی قائم کی گئی ہے۔

سپیشل انیشیٹو (خصوصی اقدام) کے نام سے قائم کی گئی اس وزارت کا قلمدان صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر لعل خان کو سونپا گیا ہے۔

ملک میں پہلی مرتبہ ایک نئی وزرات کا قیام اس وزارت کے انچارج کا موقف تھا کہ ’مجھے نئے دفتر میں ذمہ داریاں پوری طرح سنبھال لینے دیں پھر بات کر لیں گے‘۔

کافی عرصے بعد انہوں نے کشمیر ہاؤس میں بی بی سی سے بات کی۔ کشمیر ہاؤس بنیادی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت کا ہے جس میں اکثر سرکاری مہمان ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اسی عمارت کے ایک کمرے میں لعل خان کا دفتر جبکہ دوسرے میں رہائش ہے۔

’صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تو بہت مہربان ہیں لیکن بیوروکریسی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ وزیر اعظم نے دو ماہ سے میرا دفتر بنانے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں تاہم ابھی عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
لعل خان

کچھ دیر کے بعد وفاقی وزیر برائے خصوصی اقدام لعل خان روایتی شلوار قمیض میں اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو پہلے سے میز پر منتظر مہمانوں نے اپنا تعارف کروایا۔

پہلے ان سے دریافت کیا گیا کہ کشمیر ہاؤس میں دفتر بنانے کی کیا وجوہات ہیں تو انھوں نے کہا ’صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تو بہت مہربان ہیں لیکن بیوروکریسی راہ میں روکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ وزیر اعظم نے دو ماہ سے میرا دفتر بنانے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں تاہم ابھی عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔‘

لعل خان کے مطابق انھیں وزارت چلانے کے لیے عملے کی ضرورت ہے۔ تاہم وہ اپنی کوششوں سے بڑی مشکل سے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کی تقرری کروانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی سٹاف نہیں ہے۔ ’یہاں تک کہ میرا ذاتی سیکریٹری تک نہیں ہے جبکہ وزارت کے مختلف کاموں کے لیے میں اپنی ذاتی گاڑی اور ڈرائیور استعمال کرتا ہوں۔‘

اس سوال پر کہ نئی وزرات کن مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے اور اب تک کون سے اہداف حاصل کیے گئے ہیں تو اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزرات بنانے کا مقصد عوام کو پہلے سے حاصل سرکاری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں پینے کے لیے صاف پانی کے چار ہزار پمپ ملک بھر میں لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن کی تنصیب کے لیے ٹھیکے تئیس مارچ کے بعد دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے بعض اضلاع میں گھریلو سطح پر لکڑی کا فرنیچر بنانے والوں کی تربیت اور مالی مدد فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

وزارت کا قلمدان سنبھالے تقریباً دو ماہ ہی ہوئے ہیں اس لیے میں میڈیا کے سامنے نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک کوئی کام کیا ہو تو یا کوئی چیز واضح ہو کہ کیا کرنا ہے تو پھر میڈیا کے سامنے جاؤں۔

ایک سوال کے جواب میں لعل خان نے کہا کہ انھیں اندازہ نہیں ہے کہ واٹر پمپ لگانے پر کتنا خرچہ آئے گا کیونکہ ابھی تک ان کا سٹاف نہیں ہے جو تخمینہ لگا کر بتاسکے کہ کتنے وسائل درکار ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں اس لیے صاف پانی کے پمپ لگانے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں سے مدر اور رقم حاصل کی جائے گئی۔

جب ان سے پوچھا کہ ایسے منصوبے تو پچھلی حکومت نے بھی شروع کیے تھے تو لعل خان نے بتایا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بڑے اچھے منصوبے شروع کیے گئے تھے لیکن منصوبے کی تکمیل کے لیے غلط لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ جبکہ ان کی وزارت تمام منصوبوں کو مکمل طور پر شفاف بنائے گی۔

وزیر برائے خصوصی اقدامات لعل خان کے مطابق انھیں وزارت کا قلمدان سنبھالے تقریباً دو ماہ ہی ہوئے ہیں اس لیے وہ میڈیا کے سامنے نہیں جاتے کیونکہ ابھی تک کوئی کام کیا ہو تو یا کوئی چیز واضح ہو کہ کیا کرنا ہے تو پھر وہ میڈیا کے سامنے جائیں لیکن اگر کچھ ہو ہی نہ تو کس طرح میڈیا پر جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غیر ملکی سفیر اور دیگر لوگ ان سے ملاقات کے لیے ٹیلی فون کرتے ہیں۔ ’لیکن مجھے بتائیں کہ میں ان لوگوں سے کیسے ملاقات کر سکتا ہوں میرے پاس تو خود بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے۔‘

23 January, 2009

شیدا اور مجی

بی بی سی اردو بلاگ

وسعت اللہ خان 2009-01-22, 16:06

شیدا: پہلے تو مجھے صرف شبہہ تھا۔ اب تو اسکی پہلی تقریر سن کر پکا پکا یقین ہوگیا ہے کہ وہ اندر سے مسلمان ہی ہے۔ اسی لیے وہ گوانتانامو بھی ختم کررہا ہے۔۔۔

مجی: مجھے پتہ ہے کہ تو کیوں کہہ رہا ہے۔ اصل میں تو بارک کے ساتھ حسین لگنے سے دھوکہ کھا گیا ہے۔ جیسے تو سکندرِ اعظم اور منارٹی فرنٹ کے شہباز بھٹی کو بہت دنوں تک مسلمان سمجھتا رہا۔۔۔

شیدا: اور تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جو دلیپ کمار اور مدھوبالا سے دھوکا کھا گیا تھا۔۔۔

مجی: اچھا جی ناراض نہ ہوں! آپ فرما رہے تھے کہ بارک اوباما مسلمان ہے۔ بتائیے کیسے پتہ چلا؟

شیدا: دیکھ جس طرح دنیا کے لیے میں محمد رشید نہیں شیدا ہوں۔ جس طرح تیری ماں کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ تو مجی نہیں عبدالمجید ہے۔ اسی طرح یہ جاہل لوگ مبارک کو بارک سمجھ رہے ہیں۔۔۔

مجی: پر بھولے بادشاہ! اس نے تو انجیل پر حلف اٹھایا ہے، ہا ہا ہا۔۔۔

شیدا: ہتھ سٹ! اسی سے تو مجھے پتہ چلا کہ وہ مسلمان ہے۔

مجی: ہیں جی!

شیدا: ہاں جی! عیسائی قرآن کو مانیں نہ مانیں۔ مسلمان کے لیے تو انجیل پر ایمان لانا فرض ہے نا! اور پھر اسکا اصلی اور سوتیلا باپ دونوں الحمدللہ مسلمان تھے۔ اور اپنے ہاں تو بچہ باپ ہی سے پہچانا جاتا ہے نا، مجی!

مجی: لیکن پھر اسے پوری دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنے میں کیوں شرم آرہی ہے کہ وہ مسلمان ہے؟ میں تو کبھی نہیں ڈرا اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے۔ بلکہ میں ہی کیا آصف زرداری کو دیکھ لو، حامد کرزئی کو دیکھ لو۔ سعودیہ، کویت، مصر، عراق کے بادشاہ کو دیکھ لو۔ سب سینہ پھیلا کر کہتے ہیں کہ ہاں ہم مسلمان ہیں۔ کرلو جو کرنا ہے۔۔۔ تو پھر بارک او۔۔۔

شیدا: اسی لیے تو وہ اعلان نہیں کررہا ہے میری جان!

مذہب کے نام پر

بی بی سی اردو بلاگ

جاوید سومرو 2009-01-16, 15:07

پاگل ہوگیا ہوں۔ جتنا سوچتا ہوں ذہن مزید گنجلک ہورہا ہے۔ غزہ پر بمباری کے اکیس دن ہوچلے ہیں، سینکڑوں بچے، عورتیں اور مرد ہلاک ہوچکے ہیں، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں اور دسیوں ہزار لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ درجنوں عمارتیں کھنڈر بن گئی ہیں۔
jerusalem.jpg

اسرائیل نے یہ سب، اس کے بقول، اپنی سلامتی کے لیے کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حماس یہودی ریاست کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر اتنا ظلم!

ہزاروں میل دور ضلع سوات میں بھی درجنوں عمارتیں بموں سے اڑا دی گئی ہیں۔ یہ عمارتیں درس گاہیں تھیں جو اب کھنڈر بن چکی ہیں۔ مذہب کے نام پر ہی ہزاروں طالبات کی تعلیم روک دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ قبائیلی علاقوں میں لوگوں کو جاسوسی کرنے کے الزام پر ذبح کیا جاتا ہے اور ان کی وڈیو بڑے جوش و جذبے سے نشر کی جاتی ہے ۔ طالبان کے خوف اور فوجی کارروائی کی وجہ سے بیشمار لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر اتنا ظلم؟

کبھی سوچتا ہوں کہ غزہ کے حالات، اسرائیلی کارروائی، طالبان کے اقدامات اور پاکستانی فوج کے آپریشن کا ایک ہی بلاگ میں تذکرہ نہ کروں۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ معاملات تو جڑے ہوئے ہیں، تو پھر ذکر کرنے میں حرج بھی نہیں۔ آخر بنی نوع انسان کی تکالیف کا کافی حصہ کسی نہ کسی طرح مذہب کے نام سے جڑا تو ہے نا۔

طالبان سمجھتے ہیں کہ اصل اسلام کو صرف وہ ہی سمجھتے ہیں اور مذہب کی تشریح جو وہ کرتے ہیں وہ ہی درست ہے اور اسی کو نافذ کیا جانا چاہیئے۔ طالبان کے مخالف، بشمول پاکستانی حکومت، سمجھتے ہیں کہ طالبان ان پڑھ اور غیر مہذب ہیں اور اسلام کی انتہائی غلط اور ظالمانہ تشریح کرتے ہیں اور ان کو اگر ختم نہیں کیا گیا تو وہ پورے پاکستان کو جہالت کے اندھیرے میں دھکیل دیں گے۔

حماس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف چودہ سو برس سے پرخاش چلی آرہی ہے اور اسی لیے انہوں نے مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرکے ان کے خلاف ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ لیکن اسرائیلی کہتے ہیں کہ جس خطے پر اسرائیل قائم ہے وہ ان ہی کی زمین ہے جہاں سے انہیں سینکڑوں برس پہلے بے دخل کرکے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا گیا۔ یہودی اپنے دعوے کے حق میں'آسمانی' کتابیں لاکر دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں خدا نے انہیں یہ زمین دینے کا واعدہ کر رکھا ہے۔

میں انتہائی تذبذب کا شکار ہوں۔ مجھے تو بتایا اور پڑھایا گیا تھا کہ مذاہب تمام انسانوں کی بھلائی کے لئے تھے۔ وہ ظلم، بربریت اور قتل و غارتگری کی اجازت نہیں دیتے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ظلم، بربریت اور قتل و غارتگری مذہب کے نام پر ہی ہوئی ہے۔

بقول شخصے مذہب ایک ایسی چھری ہے جو اگر بچے کے ہاتھ میں ہو تو وہ یا خود کو نقصان پہنچائےگا یا پھر کسی اور کو۔

06 January, 2009

سوات، ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نیا سلسلہ

سوات
ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سوات کے مختلف علاقوں سے پینتیس سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں

 
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں برسرِ پیکار سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان جاری لڑائی نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے جہاں پر مختلف مقامات سے تقریباً ہر روز اوسطاً چار لاشوں کا ملنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سوات کے مختلف علاقوں سے پینتیس سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک رقاصہ اور بھکارن سمیت کئی خواتین بھی شامل ہیں۔
ہلاکتوں کی یہ واردادتیں عموماً رات کو ہوتی ہیں اور صبح ہوتے ہی مقامی لوگوں کو لاشیں نظر آجاتی ہیں۔زیادہ تر لاشیں سوات کے وسط میں واقع گرین چوک سے ملی ہیں۔گرین چوک اب لوگوں کے خون سے رنگ کر سرخ چوک میں بدل چکا ہے جس سے بعض مقامی افراد ’قتل گاہ‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے بعد لاش کو گرین چوک میں پھینکنے سے ان وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کا مقصد بظاہر شہریوں پر اپنی وحشت اور بربریت ظاہر کر کے انہیں مزید خوفزدہ کرنا ہے۔
ابھی تک جتنی بھی لاشیں ملی ہیں انکے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ ان وارداتوں میں مسلح طالبان ممکنہ طور پر ملوث ہوسکتے ہیں۔اسکی دلیل یہی تھی کہ طالبان نے بعض ہلاکتوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کرلی تھیں۔
دعویٰ
 گرین چوک اور اوڈی گرام سے ملنے والے تین افراد کی لاشیں ہمارے ساتھیوں کی تھیں جو گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔
 
مسلم خان

جن افراد کو مارا گیا ہے ان میں سے بعض ایسے پیشوں سے مبینہ طور پر منسلک تھے جنہیں طالبان نے غیر اسلامی قرار دیکر مرتکب افراد کو سزائیں دینے کی دھمکیاں دی تھیں۔ان میں منشیات، رقص و سرود کی محفلیں سجانے، چوری، ڈکیتی، مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہونا، غیر منکوحہ خواتین کو رکھنا وغیرہ شامل تھے۔
لیکن لاشیں ملنے کے حوالے سے تصویر کا دورسرا رخ اس وقت سامنے آیا جب دو دن قبل طالبان ترجمان مسلم خان نے گرین چوک اور اوڈی گرام میں ملنے والے تین افراد کی لاشوں کے بارے میں الزام لگایا کہ یہ انکے ساتھی تھے جو گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان افراد کو ٹارچر کرکے مارا گیا ہے۔
اگلے دن یعنی اتوار کو طالبان نے جواب میں دو ایف سی اہلکاروں کو گلا کاٹ کر ماردیا اور کہا کہ یہ انکے ساتھیوں کے قتل کا بدلا ہے۔ ایک اور واقعہ میں منگل کے روز ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات مسلح طالبان نے تحصیل مٹہ کے کالج چوک میں ان پانچ اہلکاروں کو گولیاں مار کر قتل کردیا جنکو کچھ عرصے قبل انہوں نےاغواء کیا تھا۔ان میں سے ایک اہلکار زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
تردید
 مسلم خان کے اس الزام کے بعد سوات میڈیا سینٹر کے اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی۔
 

سوات میں ہونے والی’ٹارگٹ کلنگ‘ میں سکیورٹی فورسز کی مبینہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے آزاد ذرائع کے ذریعے جب حقائق جاننے کی کوشش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ روز جن تین افراد کی لاشیں ملی تھیں وہ ایک ماہ سے سکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے۔
ان تنیوں افراد کو سکیورٹی فورسز نےعید الاضحٰی سے چند روز قبل فضاء گٹ کے مقام سے گرفتار کیا تھا۔ علاقے کے معتبرین نے اس سلسلے میں ضلعی رابطہ افسر اور سکیورٹی فورسز کے بعض اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کیں کہ یہ سبھی افراد عام شہری ہیں جن کا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان ملاقاتوں میں شریک ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے نام عصمت علی، اقبال سید اور جاوید ہیں جو منگلور کے علاقے کے باشندے ہیں۔ان میں سے عصمت علی مینگورہ میں واقع اباسین مارکیٹ کے لاہور ٹیوب ویل کی دوکان میں کام کتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقاتوں کے دوران انہیں کہا گیا کہ یہ افراد مبینہ طور پر طالبان کو گاڑیوں میں ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔
ان کی رہائی کی کوششوں میں شامل ایک اور شخص نے بتایا کہ ان افراد کی لاشوں کو دیکھ کر ہمیں بہت بڑا دھچکا پہنچا ہے کہ علاقے میں جاری’ ٹارگٹ کلنگ‘ میں ہلاک ہونے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو سکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے۔
تاہم مسلم خان کے اس الزام کے بعد سوات میں قائم سرکاری میڈیا سینٹر کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی۔

ابن الہیثم: ’پہلے حقیقی سائنسدان‘

الحسن ابن الہیثم
الحسن ابن الہیثم کا تصوراتی خاکہ

 
 
سب اتفاق کریں گے کہ آئزک نیوٹن دنیا کے عظیم ترین ماہر طبعیات تھے۔ کم سے کم سکول میں ہمیں جو پڑھایا جاتا ہے اس کے مطابق وہ جدید بصری علوم کے بانی ضرور تھے۔ سکول کی کتابیں عدسوں اور منشور کے ساتھ ان کے مشہور تجربات، ان کی روشنی اور انعکاس اور انعطاف کے عمل پر تحقیق کی تفصیل سے بھری پڑی ہیں۔
لیکن حقیقت شاید کچھ مختلف ہے، میں یہ باور کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ بصری علوم کے میدان میں نیوٹن سے پہلے ایک اور بہت بڑی ہستی سات سو سال پہلے ہو گزری ہے۔ مغرب میں اکثر لوگوں نے ان کا نام کبھی نہیں سنا۔
بلا شبہہ ایک اور عظیم ماہر طبیعات جن کا رتبہ نیوٹن کے برابر ہے سن نو سو پینسٹھ عیسوی میں اس علاقے میں پیدا ہوئے جو اب عراق کا حصہ ہے۔ ان کا نام الحسن ابن الہیثم تھا۔

بحیثیت ماہر طبعیات میں خود اس شخص کی طبعیات کے میدان میں خدمات کا معتقد ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ بی بی سی کے لیے قرون وسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کی زندگی پر پروگرام تیار کرتے ہوئے مجھے ابن الہیثم کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان اور یورپ میں نشاط ثانیہ کے درمیان میں کوئی بڑی سائنسی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن صرف اس لیے کہ مغربی یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس کا مطلب یہ نہیں

ابن الحیثم نے روشنی پر تجربات کیے
کہ دنیا میں دوسری جگہوں پر بھی کوئی کام نہیں ہو رہا تھا۔
نویں اور تیرہویں صدی کے درمیان کا عرصہ عرب سائنسدانوں کا سنہرا دور تھا۔ ریاضی، فلکیات، طب، طبعیات، کیمیا اور فلسفے کے میدان میں بہت کام کیا گیا۔ اس دور کے بڑے ناموں میں ابن الہیثم کا نام شاید سب سے روشن ہے۔

آنکھ کیسے دیکھتی ہے
 ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ انہوں نے افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جو پہلے کسی نے کبھی نہیں کیا تھا
 
ابن الہیثم کو جدید سائنسی ضابطۂ عمل کا بانی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جس کو سائنسدان معلومات کے حصول، معلومات کی درستگی، الگ الگ معلومات کو ملا کر نتیجہ اخذ کرنے اورمشاہدے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے سائنسدان اپنا کام کرتے ہیں اور یہی میرے سائنس پر اعتماد کی وجہ ہے۔
لیکن اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے جدید سائنسی طرز عمل سترہویں صدی کے اوائل میں فرانسس بیکن اور رینے ڈیکارٹ نے متعارف کروایا تھا۔ تاہم مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن الہیثم یہ منزل پہلے طے کر چکے تھے۔
ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ انہوں نے افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ریاضی کا سہارا لیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
ابن الہیثم نے روشنی، انعکاس اور انعطاف کے عمل اور شعاؤں کے مشاہدے سے کہا کہ زمین کی فضا کی بلندی ایک سو کلومیٹر ہے۔
ابن ہیثم کو بھی ہر سائنسدان کی طرح اپنی دریافتوں کو تحریر کرنے کے لیے وقت اور تنہائی کی ضرورت تھی۔ انہیں یہ موقع بد قسمتی سے ملا۔ انہیں مصر میں دریائے نیل کے سیلاب کا سد باب کرنے میں ناکامی پر سن ایک ہزار گیارہ اور ایک ہزار اکیس کے بیچ میں پکڑ لیا گیا۔ انہوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے سزا سے بچنے کے لیے پاگل پن کا ڈراما رچایا جس کے بعد انہیں دس سال کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔
ابن الہیثم کو خلیفہ کی موت کے بعد رہائی ملی۔ وہ ان علاقوں میں واپس آ گئے جو اب عراق میں ہیں اور ریاضی اور طبعیات کے موضوعات پر ایک سو کے قریب مقالات تحریر کیے۔
بی بی سی کے لیے پروگرام کی تیاری کے دوران سکندریہ میں ایک ماہر سے بات ہوئی جنہوں نے ابن الہیثم کا فلکیات کے موضوع پر حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک مقالہ دکھایا۔ ابن الہیثم نے معلوم ہوتا ہے سیاروں کے مدار کی وضاحت کی تھی جس کی بنیاد پر بعد میں کاپرنیکس، گیلیلیو، کیپلر اور نیوٹن جیسے یورپی سائنسدانوں نے کام کیا۔ کتنی غیر معمولی بات ہے کہ اب پتہ چل رہا ہے کہ آج کے ماہرین طبعیات پر ایک ہزار سال پہلے کے ایک عرب سائنسدان کا کتنا قرض ہے۔
(پروفیسر جم الخلیلی کا یہ پروگرام بی بی سی فور پر پانچ، بارہ اور انیس جنوری کو برطانیہ کے وقت رات نو بجے دکھایا جائے گا)۔